مسافر اور میراثیوں کی کہانی

مسافر اور میراثیوں کی کہانی


مسافر اور میراثیوں کی کہانی

یہ کہانی ایک ایسے معاشرتی المیے کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقتور، بااثر، یا مقامی افراد انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیتے ہیں، جبکہ سچ بولنے والا، کمزور اور اجنبی حق سے محروم رہ جاتا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک مسافر دورانِ سفر شام کے وقت ایک گاؤں میں پہنچا۔ رات بسر کرنے کے لیے اس نے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ گھر میراثیوں کا تھا، جنہوں نے مسافر کو خوش دلی سے ٹھہرا لیا۔ اسی رات اس کی گھوڑی نے ایک بچہ جنا، جو کہ ایک "وچھیرا" یعنی گھوڑی کا بچہ تھا۔ صبح جب مسافر رخصت ہونے لگا تو میراثیوں نے گھوڑی کے بچے کو روک لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ بچہ ان کی گائے نے جنا ہے۔
مسافر حیران و پریشان ہو گیا۔ اُس نے بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ تو گھوڑی کا بچہ ہے، نہ کہ گائے کا، مگر گاؤں والوں نے میراثیوں کی حمایت کی۔ وجہ یہ تھی کہ مسافر اکیلا اور اجنبی تھا، جبکہ میراثی مقامی لوگ تھے۔ انصاف کے لیے معاملہ گاؤں کے چوہدری کے پاس لے جایا گیا۔ چوہدری نے انصاف کا لبادہ اوڑھ کر میراثیوں کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا کہ اُس کے دادا مرتے وقت بتا گئے تھے کہ میراثیوں کی گائے جب بچہ جنتی ہے تو وہ وچھیرا ہی ہوتا ہے۔

مسافر خاموشی سے اپنی گھوڑی لے کر چلا گیا کہ کم از کم وہ بھی کہیں چھن نہ جائے۔
جب وہ رخصت ہوا تو میراثیوں نے اچانک رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ چوہدری نے وجہ پوچھی تو میراثی بولے: چوہدری، ہم اس لیے رو رہے ہیں کہ جب تُو مر جائے گا تو تیرے جیسا منصف ہمیں کہاں ملے گا!

سبق
یہ کہانی طنزیہ انداز میں ہمیں کئی اہم معاشرتی اور اخلاقی اسباق سکھاتی ہے:

جھوٹ کو اگر طاقت کا سہارا ہو تو وہ سچ پر غالب آ جاتا ہے
مسافر کا حق سچ پر تھا، مگر وہ طاقت کے سامنے ہار گیا۔

ظلم صرف مار پیٹ کا نام نہیں، ناانصافی بھی ظلم ہے
چوہدری کا جانب دار فیصلہ اصل میں ایک بڑی ناانصافی تھی۔

اکثر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے انصاف بیچ دیتے ہیں
چوہدری نے فیصلہ مقامی تعلقات کی بنیاد پر کیا، نہ کہ حق و سچ کی بنیاد پر۔

طنز کا ایک اعلیٰ نمونہ
میراثیوں کا آخری جملہ دراصل چوہدری کی ناانصافی پر ایک تلخ طنز تھا کہ ظالم کو ظالم کا ساتھی ہی اچھا لگتا ہے۔

سچ بولنے والا اکثر تنہا ہوتا ہے
مسافر سچا تھا، مگر چونکہ وہ اکیلا تھا، اس لیے کسی نے اس کی بات نہ مانی۔

یہ کہانی آج کے دور میں بھی قابلِ اطلاق ہے۔ معاشرے میں جب انصاف طاقت کے بجائے سچ کی بنیاد پر ہونے لگے گا، تبھی حقیقی ترقی ممکن ہو گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

لومڑی اور اونٹ کی دلچسپ سبق آموز کہانی

گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی

کوا, ہنس, طوطے اور مور کی سبق آموز کہانی