سست شخص اور مسافر کی سبق آموز کہانی
سست شخص اور مسافر کی سبق آموز کہانی
یہ ایک پرانی کہانی ہے، جو طنز و مزاح کے انداز میں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔
کہانی کا آغاز ایک ایسے شخص سے ہوتا ہے جو بیری کے درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اردگرد پکے ہوئے بیر گر رہے تھے، لیکن وہ شخص اتنا سست تھا کہ خود اٹھ کر بیر کھانے کے بجائے کسی دوسرے کا انتظار کررہا تھا جو آ کر اسے بیر اٹھا کر کھلائے۔ اتفاق سے ایک مسافر وہاں سے گزرا، جو اپنے اونٹوں پر اناج اور لکڑیاں لادے ہوئے تھا۔ مسافر نے جب اس شخص کو دیکھا تو وہ نہ صرف آرام کررہا تھا بلکہ مطالبہ بھی کر رہا تھا کہ وہ اس کے منہ میں بیر ڈالے۔
مسافر کو یہ سن کر حیرت ہوئی اور اس نے بجا طور پر اسے کہا کہ تم خود صحتمند ہو، بیر تمھارے قریب پڑے ہیں، پھر تم کسی اور کا کیوں انتظار کررہے ہو کہ وہ آ کر تمھیں کھلائے؟ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سست شخص نہ صرف اپنے سستی پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اُلٹا مسافر پر طنز کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میرے باپ کا قول سچ ثابت ہوا۔ اُس کے باپ نے کہا تھا کہ جس کے پاس اونٹ ہوں، وہ دنیا کے سست ترین لوگ ہوتے ہیں اور کسی کی مدد نہیں کرتے۔
یہ جملہ سن کر مسافر حیران رہ گیا، کیونکہ اصل میں سستی اور کاہلی اس شخص کے اندر تھی جو خود کچھ نہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزام ڈال دیا۔
سبق
یہ کہانی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے
اپنی ناکامیوں اور سستی کا الزام دوسروں پر مت لگاؤ۔
ہر شخص اپنی زندگی کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔
جو شخص خود کچھ کرنے کو تیار نہ ہو، وہ دوسروں سے مدد کی توقع بھی نہ رکھے۔
زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت، خود اعتمادی اور خود داری ضروری ہے، نہ کہ بہانے، شکایتیں اور الزام تراشی۔
یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ:
آسانی اور موقع آپ کے قریب بھی ہو تو تب تک بے فائدہ ہے جب تک آپ خود اٹھ کر اسے حاصل نہ کریں۔
سستی، ناکامی کی پہلی سیڑھی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر: جو دوسروں پر انگلی اٹھاتا ہے، اکثر وہی اصل میں خود قصوروار ہوتا ہے۔
ایسی کہانیاں انسان کو آئینہ دکھاتی ہیں کہ ہم کس حد تک اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزام لگا دیتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
We’d love to hear your thoughts on this story!