اشاعتیں

جون, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سست شخص اور مسافر کی سبق آموز کہانی

تصویر
سست شخص اور مسافر کی سبق آموز کہانی یہ ایک پرانی کہانی ہے، جو طنز و مزاح کے انداز میں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔ کہانی کا آغاز ایک ایسے شخص سے ہوتا ہے جو بیری کے درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اردگرد پکے ہوئے بیر گر رہے تھے، لیکن وہ شخص اتنا سست تھا کہ خود اٹھ کر بیر کھانے کے بجائے کسی دوسرے کا انتظار کررہا تھا جو آ کر اسے بیر اٹھا کر کھلائے۔ اتفاق سے ایک مسافر وہاں سے گزرا، جو اپنے اونٹوں پر اناج اور لکڑیاں لادے ہوئے تھا۔ مسافر نے جب اس شخص کو دیکھا تو وہ نہ صرف آرام کررہا تھا بلکہ مطالبہ بھی کر رہا تھا کہ وہ اس کے منہ میں بیر ڈالے۔ مسافر کو یہ سن کر حیرت ہوئی اور اس نے بجا طور پر اسے کہا کہ تم خود صحتمند ہو، بیر تمھارے قریب پڑے ہیں، پھر تم کسی اور کا کیوں انتظار کررہے ہو کہ وہ آ کر تمھیں کھلائے؟ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سست شخص نہ صرف اپنے سستی پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اُلٹا مسافر پر طنز کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میرے باپ کا قول سچ ثابت ہوا۔ اُس کے باپ نے کہا تھا کہ جس کے پاس اونٹ ہوں، وہ دنیا کے سست ترین لوگ ہوتے ہیں اور کسی کی مدد نہیں کرتے۔ یہ جملہ سن کر مسافر حیران ر...

مسافر اور میراثیوں کی کہانی

تصویر
مسافر اور میراثیوں کی کہانی یہ کہانی ایک ایسے معاشرتی المیے کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقتور، بااثر، یا مقامی افراد انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیتے ہیں، جبکہ سچ بولنے والا، کمزور اور اجنبی حق سے محروم رہ جاتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک مسافر دورانِ سفر شام کے وقت ایک گاؤں میں پہنچا۔ رات بسر کرنے کے لیے اس نے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ گھر میراثیوں کا تھا، جنہوں نے مسافر کو خوش دلی سے ٹھہرا لیا۔ اسی رات اس کی گھوڑی نے ایک بچہ جنا، جو کہ ایک "وچھیرا" یعنی گھوڑی کا بچہ تھا۔ صبح جب مسافر رخصت ہونے لگا تو میراثیوں نے گھوڑی کے بچے کو روک لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ بچہ ان کی گائے نے جنا ہے۔ مسافر حیران و پریشان ہو گیا۔ اُس نے بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ تو گھوڑی کا بچہ ہے، نہ کہ گائے کا، مگر گاؤں والوں نے میراثیوں کی حمایت کی۔ وجہ یہ تھی کہ مسافر اکیلا اور اجنبی تھا، جبکہ میراثی مقامی لوگ تھے۔ انصاف کے لیے معاملہ گاؤں کے چوہدری کے پاس لے جایا گیا۔ چوہدری نے انصاف کا لبادہ اوڑھ کر میراثیوں کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا کہ اُس کے دادا مرتے وقت بتا گئے تھے کہ میراثیوں کی گا...

گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی

تصویر
گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی ایک دن کی بات ہے، ایک گدھا اپنی گدھاپن والی زندگی گزار رہا تھا، جس میں روز کی طرح کبھی کسی سے مار کھاتا، کبھی مذاق بنتا، اور کبھی خود سے گلے شکوے کرتا۔ وہ سڑک کنارے چلا جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک پرانا سا کپڑے کا گٹھا پر پڑی۔ گدھا چونک گیا، قریب جا کر سونگھا، پھر ٹٹولا، اور پھر کھول ہی دیا۔ جیسے ہی گٹھری کھلی، گدھا اچھل پڑا۔ ارے باوا، یہ تو شیر کی کھال ہے! ہاہا! اب مزہ آئے گا۔ گدھا اُسی وقت شیر کی کھال اوڑھ کر تالاب کے پاس گیا اور اپنا عکس دیکھا۔ اوہ ہو ہو! کیا بات ہے، اب تو میں بالکل شیروں کے ابّا لگ رہا ہوں۔ واہ گدھے، تم نے تو بازی مار لی! اپنے نئے روپ سے خوش ہو کر گدھا جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ سب سے پہلے ایک ہرن سامنے آیا، جسے دیکھتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے۔ ش...ش...شیر! ہرن کی ٹانگیں کانپنے لگیں، وہ ایسا بھاگا جیسے کسی نے پاؤں میں آگ لگا دی ہو۔ گدھے نے ناک چڑھا کر کہا: ہوں، دیکھا کیسے بھاگا؟ اب آئے گا مزہ! تھوڑی ہی دیر بعد بی لومڑی آ گئیں۔ جیسے ہی شیر کو دیکھا، وہ کانپنے لگیں۔ ارے شیر صاحب، آپ تو بڑے عظیم اور مہربان ہیں، مجھے مت کھائی...

کوا, ہنس, طوطے اور مور کی سبق آموز کہانی

تصویر
کوا, ہنس, طوطے اور مور کی سبق آموز کہانی ایک جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ وہ اپنی سادہ سی زندگی میں خوش تھا، مگر ایک دن ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کی سوچ کو بدل دیا۔ اس نے ایک خوبصورت ہنس کو دیکھا۔ ہنس کی سفید چمکتی ہوئی پروں نے کوے کے دل کو بے چین کر دیا۔ کوا اپنے سیاہ رنگ کو دیکھ کر اداس ہو گیا اور سوچنے لگا کہ ہنس یقینا دنیا کا سب سے خوش پرندہ ہوگا، کیونکہ وہ بہت خوبصورت ہے۔ کوا اپنے خیالات لے کر ہنس کے پاس گیا اور اپنے دل کی بات کہہ دی۔ ہنس مسکرایا اور بولا، میں بھی پہلے یہی سمجھتا تھا کہ میں سب سے خوش پرندہ ہوں، لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو میری سوچ بدل گئی۔ طوطا سرخ اور سبز رنگ کے خوبصورت پروں کے ساتھ بہت دلکش لگتا ہے۔ میرے خیال میں طوطا سب سے خوش پرندہ ہے۔ کوا اب طوطے کے پاس گیا۔ طوطے نے کوے کی بات سنی اور جواب دیا، میں بھی کبھی خود کو خوش سمجھتا تھا، لیکن جب میں نے مور کو دیکھا تو میں حیران رہ گیا۔ میرے پاس تو صرف دو رنگ ہیں، جبکہ مور کے جسم پر قدرت کے بے شمار رنگ ہیں۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ مور سب سے زیادہ خوش ہوگا۔ کوا اب مور کو دیکھنے کے لیے چڑیا گھر جا پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ سیک...

لومڑی اور اونٹ کی دلچسپ سبق آموز کہانی

تصویر
لومڑی اور اونٹ کی دلچسپ سبق آموز کہانی ایک دن ایک چالاک لومڑی ندی کے کنارے کھڑی تھی۔ اُس نے ندی پار کرنی تھی، مگر پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اتنے میں اُسے ندی کے اُس پار ایک اونٹ نظر آیا۔ لومڑی نے آواز دی: "اونٹ بھائی، ذرا بتاؤ یہ پانی کتنا گہرا ہے؟" اونٹ نے اپنی اونچی گردن ہلا کر کہا: "بس گھٹنوں تک!" لومڑی خوش ہوئی اور فوراً چھلانگ لگا دی۔ مگر جیسے ہی وہ پانی میں گری، اُس کا پورا جسم ڈوب گیا۔ پانی اُس کے سر سے اوپر جا چکا تھا۔ وہ ہاتھ پاؤں مارنے لگی، بمشکل ایک چٹان پر چڑھ کر جان بچائی۔ پھر چیخی: "تم نے کہا تھا پانی گھٹنوں تک ہے!" اونٹ نے پرسکون لہجے میں کہا: "ہاں! میرے گھٹنوں تک تھا، تمھارے نہیں!" سبق جب آپ کسی سے مشورہ لیتے ہیں، تو وہ اپنے قد، اپنے تجربے، اور اپنی زندگی کے پیمانوں سے جواب دیتا ہے۔ اس لیے دوسروں سے مشورہ ضرور لو، مگر فیصلہ ہمیشہ اپنے حالات، عقل اور سمجھ کے مطابق کرو۔