گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی
گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی
ایک دن کی بات ہے، ایک گدھا اپنی گدھاپن والی زندگی گزار رہا تھا، جس میں روز کی طرح کبھی کسی سے مار کھاتا، کبھی مذاق بنتا، اور کبھی خود سے گلے شکوے کرتا۔ وہ سڑک کنارے چلا جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک پرانا سا کپڑے کا گٹھا پر پڑی۔ گدھا چونک گیا، قریب جا کر سونگھا، پھر ٹٹولا، اور پھر کھول ہی دیا۔
جیسے ہی گٹھری کھلی، گدھا اچھل پڑا۔
ارے باوا، یہ تو شیر کی کھال ہے! ہاہا! اب مزہ آئے گا۔
گدھا اُسی وقت شیر کی کھال اوڑھ کر تالاب کے پاس گیا اور اپنا عکس دیکھا۔
اوہ ہو ہو! کیا بات ہے، اب تو میں بالکل شیروں کے ابّا لگ رہا ہوں۔ واہ گدھے، تم نے تو بازی مار لی!
اپنے نئے روپ سے خوش ہو کر گدھا جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ سب سے پہلے ایک ہرن سامنے آیا، جسے دیکھتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے۔
ش...ش...شیر!
ہرن کی ٹانگیں کانپنے لگیں، وہ ایسا بھاگا جیسے کسی نے پاؤں میں آگ لگا دی ہو۔
گدھے نے ناک چڑھا کر کہا:
ہوں، دیکھا کیسے بھاگا؟ اب آئے گا مزہ!
تھوڑی ہی دیر بعد بی لومڑی آ گئیں۔ جیسے ہی شیر کو دیکھا، وہ کانپنے لگیں۔
ارے شیر صاحب، آپ تو بڑے عظیم اور مہربان ہیں، مجھے مت کھائیے گا۔ میں تو آپ کی پرانی فین ہوں۔
گدھا دم سمیٹ کر اکڑ گیا۔ سوچا، واہ گدھے! آج تو تیرا راج ہے!
پورے جنگل میں ہاہاکار مچ گئی۔ بندر درختوں پر چھلانگیں مارنے لگے، خرگوش اپنے بلوں میں گھس گئے، اور طوطے تو سیدھے بے ہوش ہو گئے۔
گدھا خوشی سے نہال تھا۔
او ہو، اب تو شیر کی طرح دہاڑ ماروں گا، تاکہ سب کو ڈرا دوں۔
اس نے زور لگایا اور چیخ ماری:
ڈھینچوں۔۔۔۔ ڈھینچوں۔۔۔۔!
پورے جنگل میں سناٹا چھا گیا... پھر یکدم قہقہوں کی بارش شروع ہو گئی۔
ارے یہ تو گدھا ہے!
شیر کی کھال کے پیچھے چھپا گدھا اب سب کو معلوم ہو گیا۔ سب جانور باہر نکلے، بندروں نے آم مارے، خرگوشوں نے پتھر پھینکے، لومڑی نے کہا:
ہائے میرے ڈرامے باز شیر!
گدھے کی تو ایسی درگت بنی کہ جنگل کی ہوا میں بھی شرمندگی گھل گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں گدھا نڈھال ہو کر گرا اور بولا:
بس، اب نہیں! اب میں اصل میں گدھا ہی بن کے رہوں گا، وہی بہتر ہے!
سبق
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی بے وقوف کسی عقلمند کا بھیس بھی اختیار کر لے، تو اس کی زبان، اس کا انداز اور اس کا اصل چہرہ جلد یا بدیر سب کے سامنے آ ہی جاتا ہے۔ دوسروں کا سچا روپ اپنانے سے شخصیت نہیں بدلتی، اصل پہچان اندر سے ہوتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
We’d love to hear your thoughts on this story!