بلی، کتا اور بندر کی سبق آموز کہانی اردو میں

بلی، کتا اور بندر کی سبق آموز کہانی اردو میں
بلی، کتا اور بندر کی سبق آموز کہانی اردو میں

بلی، کتا اور بندر کی سبق آموز کہانی اردو میں

ایک گھنے درختوں والے باغ میں بلی، کتا اور بندر رہا کرتے تھے۔ تینوں الگ الگ مزاج کے تھے۔ بلی نرم خو اور سمجھدار تھی، کتا بہادر اور ذرا غصے والا، جبکہ بندر شرارتی اور فتنہ انگیز تھا۔

بندر کو دوسروں کے جھگڑے میں مزہ آتا تھا۔ وہ اکثر کسی کی بات دوسرے سے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا، تاکہ لڑائی ہو جائے اور وہ دور بیٹھ کر تماشا دیکھے۔

ایک دن بندر نے بلی سے کہا
کیا تمہیں معلوم ہے کہ کتا تمہارے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ تم صرف چوری کرتی ہو اور کبھی کسی کی مدد نہیں کرتیں

بلی نے حیرانی سے بندر کی بات سنی، مگر وہ خاموش رہی۔

پھر بندر کتے کے پاس گیا اور کہا
کیا تم نے سنا؟ بلی کہتی ہے کہ تم بس بھونکتے رہتے ہو، اصل میں تم کسی کام کے نہیں ہو

کتا غصے میں آگیا۔ وہ جھٹ پٹ بلی کے پاس پہنچا اور بھونکنے لگا
تو تم مجھے ناکارہ کہتی ہو؟ آج تمہیں سبق سکھاتا ہوں

بلی سب کچھ سمجھ چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب بندر کی شرارت ہے۔ وہ خاموشی سے ایک طرف ہٹی اور نرمی سے کتے سے کہا
دوست، میں نے کچھ نہیں کہا۔ اگر میں ایسی بات کرتی تو تمہارے سامنے کرتی۔ یہ سارا فتور بندر کا ہے، جو ہماری دوستی میں دراڑ ڈالنا چاہتا ہے


کتا کچھ لمحے چپ رہا، پھر بندر کی حرکتوں پر غور کیا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ بندر نے پہلے بھی کئی جھگڑوں میں یہی طریقہ اپنایا تھا۔

کتے نے بلی سے معذرت کی، اور دونوں نے بندر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ اگلی بار جب بندر نے کسی کو اُکسانا چاہا، تو بلی اور کتے نے مل کر اسے روک دیا۔ بندر کو شرمندگی ہوئی، اور پھر وہ بھی بہتر ہونے کی کوشش کرنے لگا۔

سبق
فتنہ پھیلانے والوں کی باتوں میں آ کر کبھی کسی اپنے پر شک نہ کریں
سمجھداری اور نرمی سے بڑے جھگڑے ختم کیے جا سکتے ہیں
سچی دوستی میں غلط فہمیاں جگہ نہیں پاتیں
شرپسند ہمیشہ تب ناکام ہوتے ہیں جب سب مل کر ہوشیاری سے کام لیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

لومڑی اور اونٹ کی دلچسپ سبق آموز کہانی

گدھا اور شیر کی کھال ایک مزاحیہ سبق آموز کہانی

کوا, ہنس, طوطے اور مور کی سبق آموز کہانی